ہر پل مزے کی زندگی

Image
  مالکن کی ڈائری چیپٹر 8 ہر پل مزے کی زندگی  میں بولی ہاں شوہر نے اپنا ٹیسٹ کرایا تھا بس بابر ھی میری دنیا ھے سب کچھ ھے میرے لیئے پھر چلی گئی میں روم میں آئی تو بابر نے کہا کے آپ نے بینا کو نہیں بتایا تھا اسے کیوں بتایا میں مسکرا کر بولی بینا ایسے سوال نہیں کرتی تھی مگر مدی نے سوال ایسا کیا کے میں نے سچ بتا دیا پھر میں بولی چلو اب چل کر کچھ پکانے کو لینے چلیں پھر ھم لائے اور دوپہر کا  کھانا بنایا مدی کا شوہر تو جاب چلا گیا تھآ مدی میں بابر نے کھانا کھایا بابر روم گیا تو مدی نے مجھے چونکہ دیا بولی ایک بات بولوں ناراض نہیں ھونا میں بولی ہاں بولو بولی بابر مجھے اچھا لگتا ھے میں بھی بول دی کہ بابر تمہاری تعریف کرتا ھے بولی کہا کیا واقعی میں نے کہا بابر نے تمہیں پٹاخا کہا ھے مدی مسکرا کر بولی میں پٹاخا ھوں میں بولی بلکل تم پٹاخا ھو بولی  کم تو تم بھی نہیں ھو اسی طرح کچھ دن گزرے تو ایک رات بابر پانی پینے گیا اور دیر سے آیا اور بتایا کے مدی نے مجھے پکڑ لیا ت...

بیوہ سارہ کی زبانی

بیوہ سارہ کی زبانی 


میں سارہ ہوں، میری زندگی کبھی اتنی مشکل نہ تھی۔  
میرے شوہر کو کینسر کا پتہ چلا تو میرا دنیا ڈھیر ہو گئی۔  
میں نے دن رات ہسپتالوں کے چکر لگائے، دوائیاں خریدیں۔  
اس کی تکلیف دیکھ کر میرا دل روتا تھا مگر میں ہمت نہ ہاری۔  
علاج مہنگا تھا، پیسے ختم ہونے لگے تو گھر بیچنے کا فیصلہ کیا۔  
وہ گھر جو ہم نے خواب دیکھ کر بنایا تھا، وہ بھی چلا گیا۔  
میں تھک چکی تھی، مگر اپنے شوہر کے لیے سب کچھ کرتی رہی۔  
آخر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا، موت نے سب کچھ لے لیا۔  
اب میں اکیلی تھی، بے گھر، بے سہارا، صرف یادوں کا بوجھ اٹھائے۔  
زندگی رک سی گئی تھی، کوئی امید نظر نہ آتی تھی۔



  
تنہائی کے ان دنوں میں میں روتی رہتی، کچھ کھانا بھی نہ بھاتا۔  
لوگ مجھے بیوہ کہہ کر دور ہو جاتے، کوئی سہارا نہ ملا۔  
میں سوچتی کہ اب کیا کروں، کیسے گزارا کروں۔  
راتوں کو شوہر کی یادیں ستاتیں، آنکھیں نم رہتیں۔  
ایک دن ایک امیر لڑکا احمد میرے راستے میں آیا۔  
وہ مجھے دیکھ کر رک گیا، اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب تھا۔  
میں نے اسے نظر انداز کیا، بیوہ کے دل میں محبت کی جگہ نہ تھی۔  
وہ بار بار ملنے آیا، کہنے لگا "مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے"۔  
میں نے صاف انکار کر دیا، کہا "میں تمہارے لائق نہیں"۔  
مگر وہ ہٹا نہیں، اس کی نظر میں سچائی تھی۔


  
احمد روز میرے پاس آتا، پھول لاتا، مدد کی پیشکش کرتا۔  
میں غصے میں بھر گئی، ایک دن اسے خوب پیٹا بھی۔  
"دور رہو مجھ سے، میں بیوہ ہوں، تم امیر لڑکے ہو"، چیخ کر کہا۔  
وہ درد سے کراہا مگر خاموش ہو گیا، پھر بھی آیا۔  
میں سمجھ نہ سکی کہ یہ لڑکا مجھ میں کیا دیکھتا ہے۔  
میرا دل سخت ہو چکا تھا، زخم بھرنے کا نام نہ لیتے تھے۔  
وہ میرے گھر کے باہر کھڑا رہتا، بارش میں بھی۔  
اس کے صبر نے مجھے حیران کر دیا، مگر میں پگھلی نہ۔  
رات کو سوچتی کہ شاید یہ بھی جھوٹا ہے، سب چھوڑ جائے گا۔  
مگر وہ روز نئی امید لے کر آتا۔


وقت گزرتا گیا، احمد کی مدد سے میں نے چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لیا۔  
وہ خاموشی سے میرے لیے سامان لاتا، کبھی کھانا بھیجتا۔  
میں اسے دیکھ کر سوچتی، کیا واقعی کوئی مجھ سے محبت کر سکتا ہے؟  
میرے دل کے اندر ایک چھوٹی سی آواز اٹھی، مگر میں نے دبائی۔  
ایک دن وہ بیمار ہو گیا، پھر بھی میرے لیے آیا۔  
اس کی حالت دیکھ کر میرا دل پسیج گیا، پہلی بار۔  
میں نے اسے پانی پلایا، اس کا ہاتھ تھاما۔  
اس رات مجھے احساس ہوا کہ میں اکیلی نہیں رہنا چاہتی۔  
مگر پرانے زخم اب بھی تازہ تھے، ڈر لگتا تھا۔  
احمد نے کہا، "میں تمہارا انتظار کروں گا جتنا چاہے"۔


  
احمد کے صبر نے میرے دل کی دیواروں کو ہلا دیا۔  
میں نے اس سے بات کرنا شروع کر دی، اپنی کہانی سنائی۔  
وہ روتا تھا میری بات سن کر، مجھے گلے لگانا چاہتا تھا۔  
میں شرماتی، مگر اندر سے سکون ملنے لگا۔  
اس نے مجھے نئی امید دی، کہ زندگی اب بھی خوبصورت ہے۔  
میں نے سوچا، شاید اللہ نے مجھے دوسرا موقع دیا ہے۔  
اس کے پیار میں کوئی لالچ نہ تھا، خالص محبت تھی۔  
میرا دل آہستہ آہستہ پگھلنے لگا، زخم بھرنے لگے۔  
راتوں کو اب اس کی یاد آتی، آنسو خوشی کے بھی آتے۔  
میں نے خود سے پوچھا، کیا میں اسے قبول کر سکتی ہوں؟


  
ایک خوبصورت شام احمد میرے پاس آیا، گھٹنوں کے بل بیٹھا۔  
اس نے ہاتھ میں انگوٹھی تھام کر شادی کی پیشکش کی۔  
میرے آنسو بہہ نکلے، مگر یہ خوشی کے تھے۔  
میں نے سوچا، میرا دل اب تیار ہے، یہ سچا پیار ہے۔  
میں نے ہاں کر دی، اس کے گلے لگ کر روئی۔  
وہ مجھے اٹھا کر گھما کر خوش ہوا، دونوں ہنس پڑے۔  
اس دن کے بعد ہم نے شادی کی تیاریاں شروع کیں۔  
لوگوں نے طعنے دیے مگر ہم نے پرواہ نہ کی۔  
میرا دل پہلی بار مکمل طور پر بھر گیا تھا۔  
احمد نے مجھے وعدہ کیا، "میں ہمیشہ تمہارا سہارا بنوں گا"۔



  
شادی کے دن میں سفید لباس میں تھی، دل میں نئی زندگی۔  
احمد نے مجھے دیکھ کر کہا، "تم میری دنیا ہو"۔  
ہم نے نکاح پڑھا، سب کے سامنے قسم کھائی۔  
میں نے سوچا، جو کھویا تھا، اس سے بڑھ کر ملا ہے۔  
شادی کے بعد ہم ایک خوبصورت گھر میں رہنے لگے۔  
وہ مجھے ہر وقت خوش رکھتا، میری ہر خواہش پوری کرتا۔  
میں نے بھی اسے اپنا سب کچھ بنا لیا۔  
پرانے درد اب صرف کہانی بن گئے تھے۔  
ہم ساتھ گھومتے، ہنستے، خواب دیکھتے۔  
زندگی واقعی دوبارہ شروع ہو چکی تھی۔


  
اب ہمارے گھر میں ہنسی کی آوازیں گونجتی ہیں۔  
احمد مجھے بیوہ نہیں، اپنی جان کہتا ہے۔  
میں نے اسے بتایا کہ اس کے پیار نے مجھے زندہ کیا۔  
وہ ہر رات میرا ہاتھ تھام کر کہتا، "تم میری سب سے بڑی نعمت ہو"۔  
ہم نے مل کر نئی یادیں بنانی شروع کیں۔  
میرا ماضی اب مجھے نہیں ستاتا، کیونکہ حال خوبصورت ہے۔  
میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ اس نے احمد بھیجا۔  
اب میں ڈرتی نہیں، کیونکہ میرے پاس سچا سہارا ہے۔  
ہر صبح نئی امید کے ساتھ اٹھتی ہوں۔  
محبت نے سب کچھ بدل دیا ہے۔

  

لوگ اب مجھے خوش دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔  
میں انہیں بتاتی ہوں کہ صبر اور سچے پیار کا نتیجہ یہ ہے۔  
احمد نے مجھے نہ صرف گھر دیا بلکہ دل بھی جوڑ دیا۔  
ہمارے درمیان کوئی فرق نہیں، امیر غریب سب بھول گئے۔  
میں اسے اپنی کہانی سناتی، وہ سن کر مجھے مزید چاہتا۔  
ہم نے فیصلہ کیا کہ ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ نبھائیں گے۔  
زندگی کے ہر موڑ پر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رہیں گے۔  
میرا دل اب مکمل ہے، کوئی خالی پن نہیں۔  
ہر لمحہ احمد کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔  
محبت واقعی معجزہ ہے۔

  

آج میں خوش ہوں، بیوہ کی کہانی خوشگوار انجام تک پہنچی۔  
احمد میرے ساتھ ہے تو ہر مشکل آسان لگتی ہے۔  
میں نے سیکھا کہ زندگی رکتی نہیں، نئی راہ بناتی ہے۔  
جو کھویا تھا، اس سے بہتر ملا ہے۔  
اب ہمارا گھر محبت سے بھرا ہے، ہنسی سے گونجتا ہے۔  
میں دوسری بیوہوں سے کہنا چاہتی ہوں، امید نہ چھوڑو۔  
سچا پیار ضرور ملتا ہے، صبر کرو۔  
میری زندگی کا سفر تکلیف سے خوشی تک پہنچا۔  
احمد اور میں ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔  
اللہ کا شکر ہے، میری کہانی مکمل ہوئی۔
👇





Comments

Popular posts from this blog

وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا (3)

ہر پل مزے کی زندگی