ہر پل مزے کی زندگی
وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا (3)
دوسرے شوہر کی یاد میں روتی روتی 6 مہنے ھو گئے میں سارا دن رات اپنے روم میں رہتی پہلے اور دوسرے شوہر کی یادوں میں روتی رہتی کبھی کھانا کھاتی کبھی نہیں کھاتی تھی ایک دن ممی نے مجھے مارکیٹ چلنے کو بولی میں ممی کا دل رکھنے کیلئے ممی کے ساتھ مارکیٹ سامان لینے کیلئے آئی ھم سامان لے رھی تھی اور لڑکا جو بہت امیر لگتا تھا آتے ھی ممی کے سامنے
مجھ سے اگر تم شادی شدہ نہیں ھو تو مجھ سے شادی کرو گی میں نے کچھ نہ جواب دیا لیکن ممی لڑکے سے بولی بیٹا ھم آپ کو جانتے نہیں ہیں اور آپ اتنے میں لڑکے نہ کہا آنٹی مجھے یہ بہت پسند ھے جاننے والی بات ھے تو میں ایک امیر ھوں اور بولو تو میں آپ کے گھر اپنی ممی پاپا کے ساتھ رشتے کیلئے اؤں ایڈریس دیں ممی بولی بیٹا چل کر کہیں بات کرتے ہیں یہاں نہیں
پھر لڑکے نے کہا آنٹی آپ نے جو سامان لینا ھے لے لیں میں آپ دونوں کا ویٹ کرتا ھوں ممی بولی بیٹا سامان تو لے لیا ھے پھر لڑکا ھم کو ایک کیفے میں لایا کافی کا آرڈر دیا تو ممی بولی زویا کو چائے پسند ھے تو تین چائے کا آرڈر دیا لڑکے نے میرے نام کی تعریف کی تو ممی بولی بیٹا آپ کو میں یہ صاف بتا دیتی زویا بیوہ ھے اور دو بار شادی ھوئی تھی ایک تو ایکسیڈنڈ سے
دوسرے کو ہارٹ اٹیک سے دیت ھو گئی ھے مگر لڑکا ٹس سے مس نہ ھوا اور شادی کی ضد کرنے لگا تو ممی بھی مان گئی اور گھر کا ایڈریس دیا اور دوسرے دن لڑکا اپنی فیملی کے ساتھ گھر آگیا اور رشتہ ھو گیا ایک ہفتے بعد شادی ھوگی اور سہاگرات کیلئے یورپ کا پروگرام تھا سیدھا یورپ اگئے مجھے تو بس یہ فکر تھی کے کہیں اسے کچھ نہ ھو جائے دل میں
دعائیں کر رھی تھی اور اداس بھی تھی خیر شوہر روم میں آیا اور بس میری تعریف کرنے لگا اور مجھے بھی خوشی کے ساتھ دکھ بھی تھا شوہر نے کہا یار میں تمہیں پرانی یادوں کے بارے میں کچھ نہیں پوچھتا بس اتنا بتاؤ کیا میں تمہیں پسند ھوں میں ابھی تک تمہاری آواز نہیں سُنی ھے میں مسکرا کر بولی آپ بہت اچھے ہیں بس آپ مجھے چھوڑ کر نہ جانا شوہر
نے کہا کبھی نہیں چھوڑو گا تمہیں بہت پیار کروں گا آج ہماری سہاگرات ھے میں اس خوشی میں شوہر کے گلے لگ گئی شوہر مجھے پیار کرنے لگا میں شوہر کا پیار پانے میں شوہر کا ساتھ دینے لگی پھر شوہر نے میرے سارے کپڑے اتار کر میرا ننگا جسم دیکھ کر چومتے ھوئے تعریف کرنے لگا اور خود بھی ننگا ھو گیا اور مجھے اپنے اوپر لیٹا کر میری چُوت میں لن ڈال کر
سلوسلو چدائی کرنے لگا اب میں بھی سارے غم بھول کر اپنے تیسرے شوہر کو خوش کرنے لگی اور ھم دونوں مستی میں آگئے بہت دیر تک ھم کام میں بیزی رھے پھر ھم فارغ ھو گئے اور نہا دھو کر ھم باہر کھانا کھا کر آئے تو شوہر نے کہا ابھی ھم دوسری طرح کرتے ہیں میں بولی مطلب شوہر نے کہا مطلب میں تمہاری چاٹوں گا تم میرا چوسنا میں مسکرا کر بولی آپ جو
بولیں میں سب کروں گی شوہر نے مجھے بانہوں میں بھر کر چوم کر کہا زویا سچ میں تم بہت پیاری ھو میں بولی تم بھی بہت پیارے ھو پھر شوہر نے کھڑے کھڑے مجھے ننگا کیا اور خود بھی ننگا ھو کر اپنا لن میرے ہاتھ میں دے کر کہا زندگی بھر تمہیں اس کے مزے دوں گا میں لن کو سہلانے لگی شوہر
3 جنازوں کا بوجھ اٹھانے کے بعد... کیا اب زویا اندر سے بالکل ٹوٹ جائے گی؟
کیا وہ اپنی بدقسمتی کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی یا تقدیر اسے کسی ایسے موڑ پر لے جائے گی جہاں موت کا کالا سایہ بھی ہار مان جائے؟
کیا زویا تیسری شادی کرے گی؟ کیا اب کی بار اسے زندگی کا وہ سکھ مل پائے گا جس کی وہ برسوں سے پیاسی ھے... یا پھر ایک نیا طوفان اس کا منتظر ھے؟
یہ سب جاننے کے لیے اگلے (Part 4) کا انتظار کریں یا ابھی نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں!"
---------------👇---------------
Comments
Post a Comment