Posts

ہر پل مزے کی زندگی

Image
  مالکن کی ڈائری چیپٹر 8 ہر پل مزے کی زندگی  میں بولی ہاں شوہر نے اپنا ٹیسٹ کرایا تھا بس بابر ھی میری دنیا ھے سب کچھ ھے میرے لیئے پھر چلی گئی میں روم میں آئی تو بابر نے کہا کے آپ نے بینا کو نہیں بتایا تھا اسے کیوں بتایا میں مسکرا کر بولی بینا ایسے سوال نہیں کرتی تھی مگر مدی نے سوال ایسا کیا کے میں نے سچ بتا دیا پھر میں بولی چلو اب چل کر کچھ پکانے کو لینے چلیں پھر ھم لائے اور دوپہر کا  کھانا بنایا مدی کا شوہر تو جاب چلا گیا تھآ مدی میں بابر نے کھانا کھایا بابر روم گیا تو مدی نے مجھے چونکہ دیا بولی ایک بات بولوں ناراض نہیں ھونا میں بولی ہاں بولو بولی بابر مجھے اچھا لگتا ھے میں بھی بول دی کہ بابر تمہاری تعریف کرتا ھے بولی کہا کیا واقعی میں نے کہا بابر نے تمہیں پٹاخا کہا ھے مدی مسکرا کر بولی میں پٹاخا ھوں میں بولی بلکل تم پٹاخا ھو بولی  کم تو تم بھی نہیں ھو اسی طرح کچھ دن گزرے تو ایک رات بابر پانی پینے گیا اور دیر سے آیا اور بتایا کے مدی نے مجھے پکڑ لیا ت...

وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا (3)

Image
 وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا (3) دوسرے شوہر کی یاد میں روتی روتی 6 مہنے ھو گئے میں سارا دن رات اپنے روم میں رہتی پہلے اور دوسرے شوہر کی یادوں میں روتی رہتی کبھی کھانا کھاتی کبھی نہیں کھاتی تھی ایک دن ممی نے مجھے مارکیٹ چلنے کو بولی میں ممی کا دل رکھنے کیلئے ممی کے ساتھ مارکیٹ سامان لینے کیلئے آئی ھم سامان لے رھی تھی اور لڑکا جو بہت امیر لگتا تھا آتے ھی ممی کے سامنے  مجھ سے اگر تم شادی شدہ نہیں ھو تو مجھ سے شادی کرو گی میں نے کچھ نہ جواب دیا لیکن ممی لڑکے سے بولی بیٹا ھم آپ کو جانتے نہیں ہیں اور آپ اتنے میں لڑکے نہ کہا آنٹی مجھے یہ بہت پسند ھے جاننے والی بات ھے تو میں ایک امیر ھوں اور بولو تو میں آپ کے گھر اپنی ممی پاپا کے ساتھ رشتے کیلئے اؤں ایڈریس دیں ممی بولی بیٹا چل کر کہیں بات کرتے ہیں یہاں نہیں  پھر لڑکے نے کہا آنٹی آپ نے جو سامان لینا ھے لے لیں میں آپ دونوں کا ویٹ کرتا ھوں ممی بولی بیٹا سامان تو لے لیا ھے پھر لڑکا ھم کو ایک کیفے میں لایا کافی کا آرڈر دیا تو ممی بولی ز...

بیوہ سارہ کی زبانی

Image
بیوہ سارہ کی زبانی  میں سارہ ہوں، میری زندگی کبھی اتنی مشکل نہ تھی۔   میرے شوہر کو کینسر کا پتہ چلا تو میرا دنیا ڈھیر ہو گئی۔   میں نے دن رات ہسپتالوں کے چکر لگائے، دوائیاں خریدیں۔   اس کی تکلیف دیکھ کر میرا دل روتا تھا مگر میں ہمت نہ ہاری۔   علاج مہنگا تھا، پیسے ختم ہونے لگے تو گھر بیچنے کا فیصلہ کیا۔   وہ گھر جو ہم نے خواب دیکھ کر بنایا تھا، وہ بھی چلا گیا۔   میں تھک چکی تھی، مگر اپنے شوہر کے لیے سب کچھ کرتی رہی۔   آخر وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا، موت نے سب کچھ لے لیا۔   اب میں اکیلی تھی، بے گھر، بے سہارا، صرف یادوں کا بوجھ اٹھائے۔   زندگی رک سی گئی تھی، کوئی امید نظر نہ آتی تھی۔    تنہائی کے ان دنوں میں میں روتی رہتی، کچھ کھانا بھی نہ بھاتا۔   لوگ مجھے بیوہ کہہ کر دور ہو جاتے، کوئی سہارا نہ ملا۔   میں سوچتی کہ اب کیا کروں، کیسے گزارا کروں۔   راتوں کو شوہر کی یادیں ستاتیں، آنکھیں نم رہتیں۔   ایک دن ایک امیر...